ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / علم و تحقیق کے سالار مولانا سید جلال الدین عمری انتقال کرگئے ؛ مولانا کے انتقال پر ملت اکیڈمی بجنور کی جانب سے تعزیتی بیان

علم و تحقیق کے سالار مولانا سید جلال الدین عمری انتقال کرگئے ؛ مولانا کے انتقال پر ملت اکیڈمی بجنور کی جانب سے تعزیتی بیان

Sat, 27 Aug 2022 18:04:49    S.O. News Service

بجنور 27/اگست (ایس او نیوز)   معروف عالم دین اور جماعت اسلامی ہند کے سابق صدر مولانا سید جلال الدین عمری کے انتقال پر ملت اکیڈمی بجنور کے چیرمین   ڈاکٹر سراج الدین ندویؔ نے تعزیتی پیغام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ  مولانا سید جلال الدین عمری ؒ  عالم اسلام کے مقبول عام عالم تھے۔وہ جماعت اسلامی ہند کے امیر ہونے کے باوجود تمام مکتبہ ہائے فکر میں قابل احترام تھے۔مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر تھے،اس کے ذریعے بنائی گئی کمیٹیوں میں بھی آپ رہے بلکہ تفہیم شریعت کمیٹی کے کنوینر تھے۔اس کے علاوہ ملی فورموں میں آپ جماعت اسلامی کی نمائندگی کرتے رہے۔مولانا عمریؒ کی پوری زندگی اسلام کی تفہیم اور تبلیغ و اشاعت میں صرف ہوئی۔

ابتدائی تعلیم سے ہائی اسکول تک کی تعلیم آپ نے اپنے ضلع میں حاصل کی۔اس کے بعد علم دین کے حصول کے لیے جامعہ دارالسلام عمرآباد چلے آئے۔ یہاں سے 1954 ء میں سندِ فضیلت حاصل کی، مدراس یونیورسٹی سے فارسی میں منشی فاضل اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انگلش میں بی، اے کیا۔ دوران تعلیم ہی تحریک اسلامی سے متأثر ہوئے۔جامعہ عمر آباد سے فراغت کے فوراً بعد آپ مرکز جماعت اسلامی ہند رام پور آگئے  تھے۔یہاں 1956ء میں جماعت کے شعبہ  تصنیف سے وابستہ ہوگئے۔ یہ شعبہ 1970 میں رام پورسے علی گڑھ منتقل ہوگیا اور کچھ برسوں کے بعد اسے ’ادارہ تحقیق وتصنیف اسلامی‘ کے نام سے ایک آزاد سوسائٹی کی شکل دے دی گئی۔ مولانا اس کے آغاز سے 2001ء تک سکریٹری رہے،  اس کے بعد اب تک اس کے صدر تھے۔اس ادارے میں رہ کر آپ نے خود بھی تحقیقی کام کیے اور ایک ایسی ٹیم بھی تیار کی جو آج تک علمی و فکری میدان میں تحقیق و ریسرچ کے کام کررہی ہے۔مولانا عمریؒ کا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے۔یہ عمل ان کے لیے صدقہ ئ جاریہ بھی ہے۔موجودہ دور میں مسلکی عصبیت سے پاک مصنفین کی بڑی ضرورت ہے اور مولانا مرحوم نے اس ضرورت کی تکمیل میں اپنی ذمہ داری پوری ایمانداری سے ادا کی۔آپ ادارہ کے باوقار ترجمان سہ ماہی مجلہ’تحقیقات اسلامی‘ کے بانی مدیر بھی رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ جماعت اسلامی ہند کے ترجمان ماہ نامہ زندگی نو نئی دہلی کی ادارت کے فرائض بھی آپ نے انجام دیے۔

مولانا مرحوم سے میری غائبانہ ملاقات اس طرح ہوئی کہ میں ندوہ میں زیر تعلیم تھا۔غالباً 1970کی بات ہے۔میں ایک روز جماعت اسلامی حلقہ اترپردیش کے دفتر واقع گولا گنج گیا۔وہاں جاکر معلوم ہوا کہ ابھی ابھی ایک تربیتی اجتماع ختم ہوا ہے۔اس اجتماع میں کرناٹک کے ایک نوجوان بھی شریک تھے۔وہ مجھے لے کر گھومنے نکل گئے۔انھوں نے مجھے بتایا کہ آج کا اجتماع بہت کامیاب رہا۔اس میں ایک مقرر مولانا سید جلال الدین عمری تھے۔جو علی گڑھ سے تشریف لائے تھے۔انھوں نے نبی اکرم ﷺ کی مکی زندگی پر بہت پر مغز اور پر اثر تقریر فرمائی۔وہ خود بھی آب دیدہ ہوگئے اور شرکاء کی آنکھیں بھی تر ہوگئیں۔مجھے اس نوجوان کی زبانی مولانا کی تعریف سن کر ملاقات کا اشتیاق ہوا،مگر مولانا علی گڑھ واپس جاچکے تھے۔

اس کے بعد مولانا سے میری ملاقات ان کی تحریروں اور مقالات کے ذریعے ہوئی۔ان کی تحریریں  بہت تحقیقی ہوتی تھیں۔نئے موضوعات پر نئی بحثیں مولانا پیش کرتے اور عصر حاضر میں اس سے کس طرح استفادہ کرنا ہے یہ بتاتے۔میں نے ان کی تحریروں میں فقہی اختلافات کو ہوا دینے والی کوئی بات نہیں دیکھی۔ان کے مضامین اگرچے طویل ہوتے۔لیکن غیر ضروری کوئی بات نہ ہوتی۔آخر میں حوالے بھی ہوتے۔ آپ نائب امیر کی حیثیت میں علی گڑھ سے دہلی منتقل ہوگئے۔ پھر آپ  امیر جماعت ہوگئے۔


Share: